اے زندہ لاشو، احمقو،نادانو!…اے اپنا ہی برا چاہنے والو!…اے کالے کلوٹو، بیوقوفو،عقل کے اندھو!اے اَن پڑھ، گنوار، جاہلو!… اے تلیر، مکڑ، بھیا اور مٹروو

تحریک انصاف کا میئر سےNightmareتک کا سفر
اے زندہ لاشو، احمقو،نادانو!…اے اپنا ہی برا چاہنے والو!…اے کالے کلوٹو، بیوقوفو،عقل کے اندھو!اے اَن پڑھ، گنوار، جاہلو!… اے تلیر، مکڑ، بھیا اور مٹروو!… ایک بارپھر تم نے اپنے حق میں بُرا فیصلہ کرڈالا…پھر تم نے ثابت کردیا کہ ’’تمہارا کچھ ہو ہی نہیں ہوسکتا‘‘…تم پیدا ہی سسک سسک کرمرنے کیلئے ہوئے ہو،تمہیں عزت راس ہی نہیں آتی…کس قدر ناسمجھ ہو کہ اپنا ہی بھلا نہیں چاہتے اور کیسے اندھے ہوکہ حق دکھائی نہیں دیتا…کتنی ’’دُور‘‘ سے کوئی ’’اپنوں‘‘ میں رہنے کیلئے اِس نعرے کیساتھ آیا تھا کہ ’’اپنے تو اپنوں میں رہتے ہیں‘‘لیکن تم نے اِس میں سے اپنا ’’الف ‘‘سے الطاف نکال کراُن کی ’’سیتا‘‘ کا ’’سین‘‘ اُن کو دیکر کیا ہی sceneبناڈالا ہے کہ اب تو خودوہ کہیں چھپے بیٹھے یہی گنگنا رہے ہیں کہ ’’سپنے تو سپنوں میں ہی رہتے ہیں‘‘…
ویسے تم لوگوںکا کچھ بھی نہیں ہوسکتا،اپنی قسمت سنوارنے میں تمہیں کوئی دلچسپی نہیں ہے …پرانے پاکستان سے باہر نکلنے کو تم ہی کیا پورا ملک تیار نہیں ہے …حالانکہ ’’اُنہوں ‘‘ نے کیا خوب نقشہ کھینچا تھا کہ جیت اُسی کو کہتے ہیں جہاں وہ جیتیں، کُشتی وہی کُشتی ہے جہاں دوسرا پہلوان ہاتھ پاؤں بندھا ملے اور صرف ’’کھلے پہلوان‘‘ کو مارنے کی اجازت ہو…انتخاب بس وہی انتخاب ہے جس میں اُن کا انتخاب ہو اِسی لئے کرکٹ کے زمانے میں بھی وہ صرف ’’انتخاب عالم‘‘ کو ہی ساتھ رکھتے تھے…حق وہی حق ہے جسکے بارے میں نعیم کا خیال ہو کہ وہ حق ہے …ملک، وہی ملک ہے جہاں وہ وزیراعظم ہوں،صوبہ وہی صوبہ ہے جہاں اُنکا خٹک ’’اٹک‘‘ کر رہے ، مٹھاس وہی مٹھاس ہے جہا ں ’’انصاف کے مزار‘‘ کا ’’شیریں‘‘تبرک شامل ہو…ماں صرف شوکت خانم صاحبہ ہیں ، مجھ جیسے ’’جعلی ڈگری والے‘‘(حالانکہ ریحام سابق بھابھی سے شادی کرتے ہوئے ڈگری تک چیک نہیں کی ،جعلی ڈگری سے بیاہ تک رچالیا) نام نہاد عاشقِ رسول، ابن الوقت، مسخرے، سیاسی یتیم، کریہہ و خبیث، شیطان العظیم اور جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے (یہ سب اِنکی سوشل میڈیا ٹیم کے اقوال زریں کے عین مطابق تحریر کیا جارہا ہے )یعنی عامر لیاقت حسین کی ماں ایک گشتی، کنجری،طوائف ہے (استغفر اللہ…اورامی آپ بھی مجھے معاف کیجیے گا)…دوست کہتے ہیں آپ بار بار یہ نہ کہئے میں کہتا ہوں ، میںنہ بھی کہوں تو اُنہوں نے اِس قدر بار بارلکھا اورکہا ہے کہ میرے دہرانے یا نا دہرانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن بلا کی ڈھٹائی،بے شرمی اور غلطی نہ ماننے کا اگر کوئی ایوارڈ ہوتا تو صرف اِنکی جماعت کے عظیم ’’لکھے پڑھے‘‘ اور امریکہ و لندن سے تشریف لائے ہوئے اِنکے ’’مہذبوں‘‘کودیا جاتا جو اب بھی دلیل یا تنقید کے جواب میں مسلسل میری ماں کو گالیاں دینے سے باز نہیں آرہے …سو پھر جب ’’تم اپنی خو نہ چھوڑو گے تو ہم اپنی وضع کو کیوں بدلیں‘‘…آپ کو معافی مانگنا نہیں آتا دوسروں سے معافی منگوانا آتا ہے…عزت صرف ’’شیریں مزاری‘‘ کی ہے اور معذرت صرف الطاف حسین صاحب نے کرنا ہے …ہم تواعلیٰ ظرف ہیں جناب! معافی مانگ لیتے ہیں لیکن اپنی کم ظرفی ملاحظہ فرمائیے کہ کھل کر غلیظ گالیاں دینے کے باوجود اپنے سوشل میڈیا کے دہشت گردوں کا مسلسل تحفظ اور اُنکی جانب سے کسی کا بھی معافی نہ مانگنا آپ کو ایک ’’بانجھ درخت‘‘ بنا چکاہے جو صرف ’’اکڑا‘‘ رہتاہے کیونکہ اُس کی شاخ پر پھلوں کی پیدائش مقدر ہی نہیں جو اُسے جھکنے پر مجبور کریں؟…اور پھرویسے بھی ’’مخدوم‘‘ و ’’شیخ‘‘ بھی جہاں خاموش رہیں ایسے ایمان کا تو اللہ ہی حافظ…
ایک مشورہ دیتاہوں، وہ بھی مفت ، پسند آئے تو عمل کیجیے گا اور فطرت کے مطابق بَھد اڑانا چاہیں تو آپ کی مرضی…ذرا اپنی سوشل میڈیا ٹیم سے کہیے کہ ’’پرانے پاکستان ‘‘ والوں کو وولٹیئر،نپولین،شیکسپئر،رَسل اور چرچل کے اقوالوں سے بزعم خود دانشور بن کر اُن کے ووٹ پر انگلی اُٹھانے کے بجائے اپنے مذہب و ثقافت کے دائروں کا ادب سے ایک چکر لگائیں اور پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،خلفائے راشدین ،صحابہ کرام (رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) اور اہل بیت اطہار(رضی اللہ تعالیٰ عنہم) کے اقوال ڈھونڈیں تو اپنا چہرہ صاف نظر آجائے گا…ہمیں وولٹیئر یا شیکسپئر کی راہوں پر نہیں چلنا سرکارِ مدینہ کی خاک پا کو سرمہ بنا کر آنکھوں سے لگانا ہے تب ہی یقینا منزل تک پہنچ پائینگے …فی الحال تو چند اقوال آپ کی نذرکیے دیتا ہوں اور اگر تشفی نہ ہوتو اقوال پر مشتمل پوری کتاب بھی آپ کیلئے مرتب کرسکتا ہوں تاکہ آپ مستشرقین اور مغربی مفکروں کی فکرو نظر کی پچ پر ’’رَن‘‘ لینے کے بجائے اپنے ’’نیشنل اسٹیڈیم‘‘ کی وکٹوں پر توکل کرنا سیکھیں…ابتدا میں مولائے کائنات علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کے چند اقوال پیشِ خدمت ہیں جو کروڑوں وولٹیئرز اور کھربوں شیکسپئرز پر بھاری ہیں…سیدنا علیؓ فرماتے ہیں کہ ’’شکر نعمت میں اضافے کا سبب ہے ‘‘…آپ نے 2013ء کے انتخابات کے بعد سے ’’ناشکری‘‘ کا جو واویلا مچا رکھا ہے اُس نے نعمت میںاضافے کے بجائے ’’مسلسل کمی‘‘ کا تمغہ آپ کو عطا فرمایا ہے ، اب تو آپ کے لبوں کو بھی ’’دھاندلی‘‘ کہتے ہوئے شرم آتی ہے ،واللہ بااختیار ہوتے تومنہ سے ہی جھڑ جاتے…پھر باب العلم فرماتے ہیں کہ ’’کام تجربے سے انجام پاتے ہیں‘‘…ذرا غور فرمائیے کہ آپ نے آج تلک اپنے تجربوں سے کیا حاصل کیا؟بلکہ برا نا مانیے گا جن کے پاس ’’تجربہ‘‘ نام کی چیز تھی آپ نے اُنہیں اپنے دربار سے نکال باہر کیا جیسے کہ جسٹس وجیہہ،مخدم جاوید ہاشمی،معراج محمد وغیرہ…شیر خدا یہ بھی ارشاد فرماتے ہیںکہ ’’اعمال آگہی سے پورے ہوتے ہیں‘‘…کیا آپ کو اب تک یہ آگہی حاصل نہیں ہوئی کہ کراچی کس کا ہے ؟اور اگر اِسے اپنا بنانا ہے تو کسی کی ماں کو گالی دینے یا چند گھنٹوں کیلئے ٹرک پر کھڑے ہوکر چکر لگالینے سے ’’اپنا‘‘ نہیں بنا جاتا جناب!اِس شہر کو پیار و محبت سے جیتا جاتا ہے ،اخلاق وآداب یہاں کا طرہ امتیاز ہیں،دیکھ لیجیے کہ میری والدہ مرحومہ کو آپ کے لوگوں نے کیا کچھ نہ کہہ ڈالا مگر میں پھر کہتا ہوں کہ ’’سلام ہے اُس عظیم شوکت خانم صاحبہ کو جنہوں نے اِس ملک کو عمران خان دیا اور جس نے کینسر اسپتال بنا کر انسانیت کی خدمت کی‘‘… پھر امیر المومنین فرماتے ہیں کہ ’’فہم شعور سے ملتا ہے ‘‘…لیکن افسوس کہ بنی گالہ میںفہم کا نام ’’نعیم الحق ہے ‘‘جو پتہ نہیں کس کے شعور سے ملا ہے اور سچ کہتا ہوں کہ اگر یہ فہم زیادہ دیر تک آپ کے ساتھ رہاتوآپ وہم کے دائمی مریض بن جائیں گے … فی الحال تو شعور نے بصارت کھوئی ہے ڈر ہے کہ موصوف کے سبب کہیں بصیرت ہی سے محروم نہ ہوجائے…سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا یہ نصیحت آمیز قول بھی یاد رکھیے گا کہ ’’خودبینی میں ہلاکت اور خود پسندی حماقت ہے‘‘…لہٰذا میرے بھائی! خود بینی سے باہر نکلیے،تجزیہ کیجیے،اور ہر ایک کو اوئے ،ابے ،تبے اور اپنے سے چھوٹا اور نیچا سمجھنے کے بجائے اتحاد و اتفاق کی راہ اپنائیے یہیں سے آپ کا عاجزی کا سفر شروع ہوگا…اورآج کیلئے آخری قول کہ ’’قناعت باعث عزت ہے ‘‘…سو خیبر پختونخوا پر قناعت کیجیے،اور بّلا اُٹھا کر دوسروں کے شہروں کو فتح کرنے سے پہلے اُنہیں ’’اپنا‘‘ اور شکست کھانے کے بعد ’’احمق‘‘ کہنے سے گریز کیجیے…
پورا ملک بشمول کراچی وہی کررہا ہے جو اُسے کرنا چاہیے،بلاشبہ اگر انتخابات فیس بک یا ٹوئٹر پر ہوتے تو آپ fake identitiesکی مدد سے اب تک وزیر اعظم بن چکے ہوتے لیکن مجھے افسوس ہے کہ کم از کم اگلی پانچ صدیوں تک اِس قسم کا کوئی امکان نظر نہیں آتا…آپ ہار چکے ہیں خان صاحب اور اچھا اسپورٹس مین ہارسے سبق سیکھتا ہے تاکہ جیت سکے، حقائق کو تسلیم کیجیے،ایم کیوایم کی حقیقت اور الطاف حسین سے لوگوں کی محبت کو ’’دھاندلی‘‘ کے بجائے ’’ہاں مان لی‘‘ کہہ کر بڑے پن کا مظاہرہ کیجیے…’’پ‘‘ سے ’’پتنگ‘‘ ہے اور ’’پ‘‘ سے ہی پیارا پاکستان…بّلا زمین پر کام آتا ہے سو زمین پر ہی رہئے، پتنگ آسمانوں پر اُڑتی اچھی لگتی ہے ، اُسے وہیں پر اُڑنے دیجیے بلکہ آئیے اور ساتھ مل کر اُڑائیے، ماؤں بہنوں کا مذاق نہیں ، حق پرستوں کی ’’پتنگ‘‘…فی الحال تو نتیجہ یہ ہے کہ ’’آدھا مہاجر‘‘ ہار گیا اور ’’پورا مہاجر‘‘ جیت گیا…!!
بشکریہ روزنامہ جنگ … لاؤڈ اسپیکر…ڈاکٹرعامرلیاقت حسین

عمران خان کے مستقبل کی بہترین اور درست عکاسی انتہائی مزاحیہ پیرائے میں shocialmedia.com


عمران خان کے مستقبل کی ویڈیو Great Prediction… by muhammad-jameel-shahzad
عمران خان کے مستقبل کی بہترین اور درست عکاسی انتہائی مزاحیہ پیرائے میں
shocialmedia.com

آمران سیریز حصہ اول بشکریہ عامر لیاقت، روزنامہ جنگ 11 دسمبر 2015

عمران سیریز (۱)…..’’بدترین حماقت‘‘

…لاؤڈ اسپیکر…

جاسوسی ادب کی قدآور شخصیت اور عمران جیسے ’’مشہور‘‘ مگر ’’افسانوی‘‘ اور ’’احمق جاسوس‘‘ کا کردار تخلیق کرنے والے ابن صفی کے نزدیک عمران ایک ٹیڑھی ، درشت ، سخت گیر اور ضدی شخصیت کا مالک ہے …..’’گھر کا بھیدی‘‘ میں اُنہوں نے عمران کی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’لوگ اکثر سوچتے ہیں کہ عمران کی شخصیت اتنی غیرمتوازن کیوں ہے ؟ وہ ہر معاملے کو ہنسی میں کیوں اُڑا دیتا ہے ؟ والدین کا احترام اُس طرح کیوں نہیں کرتا جیسے کرنا چاہئے؟….ان کے نزدیک اِس کے پیچھے بھی ایک طویل کہانی ہے….بچپن میں ماں اُسے نماز ، روزے سے لگانا چاہتی تھی لیکن باپ نے ایک ’’مشنری اسکول ‘‘میں داخل کرا دیا….والد سخت گیر آدمی تھے اوراپنے سامنے کسی کی چلنے نہ دیتے تھے….لہذا عمران بچپن ہی سے دُہری زندگی گزارنے کا عادی ہوتا گیا…. باہر کچھ ہوتا تھا اور گھر میں کچھ … اور اِس میں عمران کو مزا بھی بہت آتا تھامشن اسکول اور گھریلو تربیت کے تضاد نے اُسے بچپن ہی سے ذہنی کش مکش میں مبتلا کر دیا تھا اور ہر چیز کا مضحکہ اُڑا دینے کی عادت پڑتی جا رہی تھی‘‘…. آسان لفظوں میںیوں سمجھ لیجیے کہ وہ اپنے مزاج کی کجی کے سبب قریباً ’’نفسیاتی ‘‘ ہوچکا تھا ….اور اب اُس کا مرض اِس خطرناک حد تک پہنچ چکا تھا کہ طبیبوںنے اُسے ’’لاعلاج‘‘ قرار دے دیا تھا….بہرحال آئیے آج سے ہم عمران سیریز کی نئی کہانیاں دیگر ’’کرداروں ‘‘کی ’’رنگینیوں‘‘ اوراُن کی ’’سنگینیوں‘‘ کے ساتھ ہفتے میں دو بار پڑھنے کا لطف حاصل کرتے ہیں….
کل صبح جب صفدر ، جولیا اور جوزف جیسے ہی عمران کے گھر پہنچے تو اُن کا منہ بنا ہوا تھا….عمران حسبِ عادت علی الصبح ہی اپنے کتوں کے ساتھ دوڑ لگانے کے بعدسلیمان اور تھریسیا کے ساتھ پائیں باغ میں بیٹھا کافی کی چسکیاں لے رہا تھا جبکہ سلیمان ہزار روپے کے ایک نوٹ کو آہستہ آہستہ ’’گول‘‘ کرنے میں مصروف تھاتاکہ ’’سونگھنے ‘‘ میں آسانی ہو….عمران نے تینوں کی نگاہوں میں سوالات کا ایک بڑھتا ہوا ’’سونامی‘‘ بھانپ لیا اور سلیمان کو اشارہ کیا کہ وہ اندر چلا جائے تاکہ کوئی اُسے نوٹ ’’گول ‘‘ کرتا ہوا نہ دیکھے ، اِسی اثنا میں صفدر نے عمران کے قریب آکر اخبار اُس کے ہاتھ میں تھما یا اور کہا کہ ’’تم نے پڑھا کہ آج تمہارا کہا ہوا اخبار میں کس طرح چھپا ہے ؟ـ‘‘….عمران نے ایک اچٹتی سی نگاہ اخبار پر ڈالی اور صفدرکی سنی ان سنی کرتے ہوئے یکایک جولیاکو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’ تم تو جانتی ہی ہو کہ میں اُردو اخبار نہیں پڑھتا….مجھے اردو پڑھنی ہی نہیں آتی ‘‘ اور یہ کہتے ہوئے وہ اپنے جوگرز کے فیتے کھولنے کے لئے جھک گیا….قبل اِس کے کہ صفدر کچھ کہتا جوزف نے عمران کو ٹوکتے ہوئے کہا کہ ’’ٹھیک ہے تمہیں اُردو پڑھنانہیں آتی مگر جو انٹرویو تم نے انگریزی میں دیا تھا وہ اُردو اخباروں میں بھی چھپا ہے ، آج جب ہم تمہاری طرف آنے کے لئے نکلے تو سنگ ہی نے ہم سے انتہائی تشویش ناک انداز میں صرف اتنا پوچھا تھا کہ ’’یہ عمران کا کون سا روپ ہے ؟ عمران، ایکس ٹو، رانا تہور علی یاپرنس آف ڈھپ‘‘ اور تم یقین کرو کہ اِس انٹرویو کو پڑھنے کے بعد ہمارے پاس کوئی جواب نہیں تھا‘‘…..’’مگر اِس میں غلط کیا ہے ‘‘…..اب عمران کی ضدی طبیعت بیدا ر ہوچکی تھی لیکن وہ ابھی تک اپنے آپ پر قابو رکھے ہوئے تھا…..’’غلط یہ ہے کہ تم نے دونوں کو احمق کہا ہے ‘‘جولیا نے تیز آواز میں کہا…..’’تو پھر؟‘‘…..اُس کے انداز میں ہٹ دھرمی اب بھی نمایا ں تھی…..’’یار اِن میں سے ایک ہمارا ملک ہے ، تم اپنے ملک کے بارے میں کیسے کہہ سکتے ہو کہ اِس نے حماقت کی ہے ؟‘‘ صفدر نے قدرے ناراضی سے جھنجھلا کر عمران سے کہا …..’’میری مرضی میں کچھ بھی کہوں، تمہیں میرے انٹرویو میں غلطیاں تونظر آرہی ہیں لیکن ’’اُنہوں‘‘ نے بھی تو اپنے وعدے پورےنہیںکئے، میں کس قدر اُمید سے ’’پراچی‘‘گیا تھا، مجھے یقین دلایاگیا تھا کہ میں ہی وہاں سے فتح یاب ہوں گا لیکن نتائج تو اِس کے برعکس نکلے، لہذا یہ میرا حق ہے کہ میں پاک لینڈ اور اُس کی فوج کے بارے میں جو چاہوں کہوں…..ویسے تم دانشوروں نے اُس میں یہ نہیں پڑھا کہ صرف میں ہی پاک لینڈ کی فوج کو قائل کر سکتا ہوں‘‘ یہ کہتے ہوئے اُس کے لہجے میں اچانک روایتی تکبر اُبھر آیا جبکہ ماتھے پر پڑنے والی لکیریں مزید گہری ہوگئیں اور ایک بلاوجہ کی ’’فاتحانہ مسکراہٹ‘‘ اُس کے چہرے کو کسی ’’کنٹینر‘‘ کا بالائی حصہ سمجھ کر ناچنے لگی ….. اِسی دوران عمران کا نوکر سلیمان اندر سے بھاگتا ہوا آیا اور کہنے لگا ’’اُس نے پھر آپ کی ذات پر حملہ کیا ہے ،وہ آپ کو مسلسل اذیت پہنچانے میں مصروف ہے لیکن آپ نے ہمارے ہاتھ پاؤں باندھ رکھے ہیں‘‘…..عمران نے سلیمان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئےکہا کہ ’’تمہیں معلوم ہے نا کہ میں ایکس ٹو بھی ہوں ، تو پھریہ کیسے ممکن ہے کہ اُس کے خلاف کچھ نہ ہورہا ہو، تقریباً روزانہ ہی اُس کی ماں کو غلیظ گالیاں دی جاتی ہیں اور تم تو جانتے ہی ہو کہ اِس بہترین ’’Work‘‘ کے لئےمیں نے ’’امان ٹِرک‘‘ کوٹاسک دے دیا ہے اور ہمارے سارے ’’خفیہ کارندے‘‘ اُس کی ماںکو مسلسل گالیاں دینے میں مصرو ف ہیں‘‘…..یہ سنتے ہی سلیمان کے چہرے پر ایسے مکروہ تاثرات اُبھرے کہ جیسے اُس کا مقصد پورا ہورہا ہو…..عین اُسی وقت تھریسیا نے عمران کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا کہ ’’چلو اندر چلتے ہیں، جوزف، جولیا اور صفدر بھی اندر ہی آجائیں گے ، آپ چینج کرلیں اور وہ نوٹ بھی ’’گول ‘‘ ہوچکا ہے بس تین چار لائنوں کے بعد آجائیں پھر ہم چلتے ہیں کیونکہ علامہ دہشت ناک کی جس معتقد طالبہ شیلا دھنی رام کو آ پ نے ’’رام‘‘ کیا ہے وہ آپ کا انتظار کررہی ہے، اِن11مہینوں میں آپ بہت اذیت سے گزرے ہیں لہذا تھوڑا ’’انجوائے‘‘ کرلیں اُس کے بعد ’’پراچی‘‘ کا مسئلہ بھی حل کرلیں گے ‘‘…..’’لیکن وہ حماقت والا بیان جس میں آپ نے کہا ہے کہ ’’ٹنڈیا اور پاک لینڈ دونوں نے حماقتیں کی ہیں، یہ آپ کا ایک خطرناک مؤقف ہے جس کی وجہ سے ہمیں مستقبل میں بھی مسترد کیا جاسکتا ہے ‘‘ صفدر کی بات ابھی جاری تھی کہ اچانک عمران کا سیل فون وائبریٹ کرنے لگا، اُس نے اسکرین پر نام دیکھ کر ہنستے ہوئے فون اُٹھایا اور پوچھا ’’ہاں کیا رپورٹ ہے‘‘…..اور پھر دوسری جانب سے جواب سننےکے بعد قہقہہ لگاتے ہوئے فون رکھ دیا…..’’کون تھا؟‘‘ تھریسیا نے پوچھا…..’’ایجنٹ ایکس تھا، اُس نے آج دوپہر سےاُس کے خلاف پاک لینڈ کے ٹی وی کے ایم ڈی کا ٹرینڈ چلادیا ہے جس کے بعد ٹوئٹر پر ہمارے جھوٹے ٹرینڈ کی تعداد ہزار تک پہنچ گئی ہے ‘‘ عمران نے سینہ پھلاتے ہوئے کہا …..’’لیکن ابھی ابھی اُس نے تردید کردی ہے بلکہ ہمیں جھوٹا بھی قرار دے دیا ہے ‘‘ صفدر نے اپنے موبائل کی اسکرین عمران کے سامنے کرتے ہوئے کہا …..عمران کے چہرے پر غصے کے آثار نمودار ہوئے اور وہ ’’ٹائیگر‘‘ کی طرح اِدھر سے اُدھر ٹہلنے لگا اُسے اِس بات سے اُلجھن ہورہی تھی کہ اُس کے چاہنے والے بڑھتے کیوں جارہے ہیں کہ اچانک ایک بار پھراُس کا موبائل وائبریٹ کرنے لگا لیکن اسکرین پر ’’No ID‘‘ دیکھتے ہی اُس نے کانپتے ہاتھوں سے فون اُٹھایا اور دوسری جانب سے بھاری آوازمیں صرف اِتنا ہی کہا گیا کہ ’’عمران! آج کابیان تمہاری بدترین حماقت ہے …..یاد رکھناـ‘‘!!!!

قومی ائیر لائن کی نجکاری نہیں ہونے دیں گے،نواز شریف قیادت کے خلاف دشنام طرازی ناقابل برداشت ہے،پاکستان مسلم لیگ(ن) کی قیادت دہائیوں سے نیم مردہ قومی اداروں کو بحال کررہی ہے، شجاعت عظیم اور ان جیسے دیگر مشرف کے چاپلوس جان بوجھ کر قیادت کو گمراہ کرنے کی کوششیں کررہے ہیں،قومی ائیر لائن کی تباہی میں سب سے بڑا کردار پیپلز پارٹی اور پیپلز یونٹی کا ہے ان کا کردار چور مچائے شور کے مترادف ہے :احمد بٹ سابق صدر ائیر لیگ لاہور

IMG-20151209-WA0007 IMG-20151209-WA0008 IMG-20151209-WA0009 IMG-20151209-WA0012
لاہور9دسمبر2015 ( )قومی ائیر لائن کے بچاؤ میں محنت کشوں کی بلند آواز کو اب دبایا نہیں جاسکتا، مشرف کے تلوے چاٹنے والے شجاعت عظیم کی سربراہی میں نااہل منیجمنٹ اور مشرف کے چمچے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں ، قومی ائیرلائن کو تباہی کے دھانے پر پہنچانے میں سب سے بڑا کردار پیپلز پارٹی اور پیپلز یونٹی کا ہے ان کے دور میں اہلیت کے تمام تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے میٹرک فیل جیالوں کو جعلی ڈگریوں پر تھوک کے حساب سے بھرتی کیا گیا، دنیا میں کسی ائیر لائن میں اتنا فاضل سٹاف نہیں جتنا کہ پی آئی اے میں پیپلز پارٹی نے ٹھونس ٹھونس کر بھرا،پیپلز یونٹی بھیڑ کی کھال میں چھپا بھیڑیا ہے جس نے لوٹ کھسوٹ کے تما م ریکارڈ توڑ دئیے قومی ادارے کی بوٹیاں تک نوچ ڈالیں اور اس کے وسائیل کو شیر مادر سمجھ کر اڑایا گیا ادارہ کو تباہ برباد کرکے اپنے گھر بھرے گئے ان ظالموں نے پورے کے پورے طیارے بیچ کھائے ادارہ میں کوئی قیمتی چیز تک نہ چھوڑی وہ بھی اٹھا کر گھروں کو لے گئے، اور ناہل منیجمنٹ ان کا کچھ نہ بگاڑ سکی کیونکہ درپردہ ان کی ملی بھگت ہے جو اب راز نہیں رہی، ان کا موجودہ کردار چور مچائے شور کی سب سے بڑی عملی مثال ہے ان لوگوں کا مشن ہی پی آئی اے کو برباد کرنا ہے جو انشاء اللہ ہم کبھی نہیں ہونے دیں گے،ادارہ اور ورکر دشمنوں کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا،قومی مفاد پر کوئی دباؤ قبول نہیں کریں گے ان خیالات کا اظہارسابق صدر ائیر لیگ لاہور احمد بٹ نے آج نجکاری کے خلاف احتجاج کے دوران کارکنان سے بات کرتے ہوئے کیا،احمد بٹ کا کہنا تھا کہ نواز شریف قیادت ملک و قوم کو ترقی کے راستے پر کامیابی سے گامزن کررہی ہے، ریلوے، پاکستان اسٹیل، کراچی کی رونقوں روشنیوں اور کاربار کی بحالی، زر مبادلہ اور معیشت کی تاریخ کی بہترین پوزیشن ، اکنامک کوریڈور ،بین الاقوامی معیار کے بہترین میزائیل، ڈرون، جنگی طیاروں تک کی ملک میں تیاری اور برآمد، دہشت گردی کے بے لگام عفریت کو لگام ، لاہور اور اسلام آآباد کے بعد ملتان اور فیصل آآباد میں میٹرو بس اور پاکستان کی پہلی میٹرو ٹرین کے تکمیل کے آخری مراحل میں جاری منصوبے سب نوازشریف کا ہی کام ہے، یونٹی کی اب تک جاری لوٹ کھسوٹ اور ہڈحرامی کے باوجود پی آئی اے اب تین سال پہلے تک دس کے قریب ناکارہ جہازوں کے ساتھ خالی ہاتھ چلنے والے نیم مردہ آئیل کمپنیوں اور غیرملکی اداروں کے نادہندہ مقروض ترین ادارے کے پاس اب چالیس سے زیادہ فعال جہاز موجود ہیں اور قومی ائیر لائن کی اس تمام بحالی اور تعمیر کا تمام تر کریڈٹ صرف اور صرف نواز شریف کو جاتا ہے، سبسڈی کا تقاضا کرنے والے عقل سے کام لیں یہ کوئی آٹا میٹرو یا غریبوں کے لئیے کوئی ضروری سہولت نہیں جس پر سبسڈی دی جائے، ہوائی سفر امیر لوگ اور اعلیٰ حکام ہی قیمت ادا کرکے کرتے ہیں اس پر امداد کا تقاضا نری جہالت ہے، تمام دنیا میں ائیر لائینیں منافع میں چلتی ہیں اور انشاء اللہ پی آئی اے بھی منافع میں ہی چلے گی اپنی قیادت کے خلاف کسی کو زبان درازی کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے، اتنی محنت سے بحالی کی جانب گامزن کیا ہوا ادارہ کسی اور کی جھولی میں ڈالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، چور دروازوں سے پارٹی اور حکومت میں داخل ہونے والے کیپٹن شجاعت اورآمریت کے دیگر ہرکارے قیادت کو گمراہ کرنے کی کوششون میں مصروف ہیں جو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اپنے مذموم ارادوں کو عملی جامہ پہنانا چاہ رہے ہیں ان کا راستہ روک کر دکھائیں گے ائیر لیگ پی آئی اے کے محنت کشوں اور قومی ائیرلائن کی وفادار یونین ہے ہم اس قسم کے ہر اقدام کے خلاف دیوار بن کر کھڑے ہوں گے اور بھرپور مزاحمت کریں گے